قائد اعظم محمد علی جناح کی مکمل بائوگرافی

0


قائد اعظم محمد علی جناح کا یوم وفات

بانی پاکستان اور پہلے گورنر جنرل پاکستان

پیدائش: 25 دسمبر 1876 - کراچی، پاکستان
وفات: 11 ستمبر 1948 - کراچی، پاکستان

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا یوم وفات

بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے 25 دسمبر 1876 کو سندھ کے موجودہ دار الحکومت کراچی میں جنم لیا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کا آغاز 1882 میں کیا اور اعلیٰ تعلیم کے لیے 1893 میں انگلینڈ روانہ ہوئے۔ وہاں 1896 میں وکالت کا امتحان پاس کرکے بیرسٹر کی ڈگری حاصل کی اور وطن واپس آئے۔

بابائے قوم نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز 1906 میں انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت سے کیا، مگر 1913 میں آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہو گئے۔ اس دوران انہوں نے خود مختار ہندوستان میں مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے مشہور چودہ نکات پیش کیے۔

کراچی میں جناح پونجا کے گھر پیدا ہونے والے اس بچے نے برصغیر کی نئی تاریخ رقم کی اور مسلمانوں کی ایسی قیادت کی جس کی بدولت پاکستان نے جنم لیا۔ قائد اعظم کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے انگریز سامراج سے آزادی حاصل کی اور تقسیم ہند کے ذریعے پاکستان کا قیام عمل میں آیا، جہاں آپ نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کی حیثیت سے کام کیا۔

قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی جرأت، ان تھک محنت، دیانت داری، عزمِ مصمّم، اور حق گوئی کا حسین امتزاج تھی۔ برصغیر کی آزادی کے لیے ان کا مؤقف دو ٹوک تھا، نہ کانگریس انہیں اپنی جگہ سے ہلا سکی اور نہ کوئی انگریز سرکار انہیں خریدنے میں کامیاب ہوئی۔

مسلمانوں کے حقوق اور علیحدہ وطن کے حصول کے لیے ان کی ان تھک جدوجہد نے ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب کیے۔ 1930 میں انہیں تپِ دق جیسا موذی مرض لاحق ہوا، جسے انہوں نے اپنی بہن محترمہ فاطمہ جناح اور چند قریبی رفقا کے علاوہ سب سے چھپائے رکھا۔

قیامِ پاکستان کے ایک سال بعد، 11 ستمبر 1948 کو محمد علی جناح خالق حقیقی سے جا ملے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی زندگی کے آخری ایام انتہائی تکلیف دہ صورتِ میں گزارے، ان کا مرض شدت پر تھا اور دی جانے والی دوائیں مرض کی شدت کم کرنے میں ناکام ثابت ہو رہی تھیں۔

ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر کرنل الہٰی بخش اور دیگر معالجین کے مشورے پر، وہ 6 جولائی 1948 کو آب و ہوا کی تبدیلی اور آرام کی غرض سے کوئٹہ تشریف لے گئے، جہاں کا موسم نسبتاً ٹھنڈا تھا، لیکن یہاں بھی سرکاری مصروفیات نے انہیں آرام کرنے کا موقع نہیں دیا۔ اس کے بعد انہیں زیارت میں واقع ریزیڈنسی میں منتقل کر دیا گیا، جسے اب قائد اعظم ریزیڈنسی کہا جاتا ہے۔

اپنی زندگی کے آخری ایام قائد اعظم نے اسی مقام پر گزارے، اس دوران ان کی حالت سنبھلنے کے بجائے مزید بگڑتی چلی گئی اور 9 ستمبر کو انہیں نمونیا ہوگیا۔ ان کی حالت کے پیشِ نظر ڈاکٹر بخش اور مقامی معالجین نے انہیں بہتر علاج کے لیے کراچی منتقل کرنے کا مشورہ دیا۔

گیارہ ستمبر کو انہیں سی ون تھرٹی طیارے کے ذریعے کوئٹہ سے کراچی منتقل کیا گیا، جہاں ان کی ذاتی گاڑی اور ایمبولینس انہیں لے کر گورنر ہاؤس کراچی کی طرف روانہ ہوئی۔ بدقسمتی سے، ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی اور آدھے گھنٹے تک دوسری ایمبولینس کا انتظار کیا گیا۔ شدید گرمی میں محترمہ فاطمہ جناح اپنے بھائی اور قوم کے محبوب قائد کو دستی پنکھے سے ہوا جھلتی رہیں۔

کراچی پہنچنے کے دو گھنٹے بعد، جب یہ مختصر قافلہ گورنر ہاؤس کراچی پہنچا، تو قائد اعظم کی حالت تشویش ناک ہو چکی تھی۔ رات دس بج کر بیس منٹ پر وہ اس دار فانی سے رخصت فرما گئے۔

قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات کے موقع پر مشاہیرِ وقت کے تاثرات:

"قائد اعظم محمد علی جناح کی رحلت نہ صرف عالم اسلام کے لیے، بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک عظیم سانحہ تھی، جس کا ثبوت ان تعزیتی پیغامات سے ملتا ہے جو آپ کے انتقال پر پوری دنیا کے راہنماؤں نے جاری کیے۔ 12 ستمبر 1948ء اور 13 ستمبر 1948ء کے اخبارات دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ دنیا بھر میں مسلمانوں نے نہ صرف قائد اعظم کے انتقال پر سوگ منایا، بلکہ غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی۔ کراچی میں نماز جنازہ کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے تحریک پاکستان کے ممتاز راہنما علامہ شبیر احمد عثمانی نے فرمایا، ’’وہ اورنگزیب عالمگیر کے بعد دوسرے عظیم مسلمان تھے۔‘‘

پاکستان کے پہلے وزیراعظم اور قائد اعظم کے دست راست نوابزادہ لیاقت علی خان نے 11 ستمبر 1948ء کو قوم کے نام اپنے نشری پیغام میں کہا، ’’اللہ تعالیٰ نے قائد اعظم کو ایک ایسے وقت میں ہمارے درمیان سے اٹھالیا ہے جب کہ ہمیں ابھی اپنی قومی بقا کے دشوار ترین مراحل میں ان کی راہنمائی کی اشد ضرورت تھی۔ ہم کو اس موقع پر اپنے اللہ کے سامنے عہد کرنا چاہیے کہ ہم غیرمتزلزل عزم کے ساتھ اس عظیم مقصد سے وابستہ ہوجائیں گے، جس کے لیے قائد اعظم نے حصول پاکستان کے بعد خود کو وقف کردیا تھا۔ اور وہ عظیم مقصد یہ ہے کہ ہم اس نومولود مملکت کو عظیم اور طاقت ور ملک بنائیں گے۔‘‘

برطانیہ کے شہنشاہ کنگ جارج نے محترمہ فاطمہ جناح کے نام ایک تعزیتی ٹیلی گرام میں کہا، ’’مجھے اور ملکہ کو آپ کے عظیم بھائی اور پاکستان کے پہلے گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح کے انتقال کی خبر سن کر شدید صدمہ پہنچا۔ یہ ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ آپ کے لیے بھی اور پاکستان کے عوام کے لیے بھی، جن کے وہ عظیم راہنما تھے۔‘‘ برطانیہ کے وزیراعظم کلیمنٹ آر ایٹلی نے کہا کہ قائد اعظم کے انتقال سے پاکستان اپنے عظیم ترین شہری سے محروم ہوگیا ہے۔

انہوں نے ایک مدت سے برصغیر کی ملت اسلامیہ کے لیے اپنی عظیم صلاحیتوں کو وقف کر رکھا تھا۔ وہ ایک راہنما کی حیثیت سے نمایاں اور ممتاز تھے اور پاکستان میں ان کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ شاید ہی پُر ہوسکے۔ برطانوی پارلیمنٹ کے رکن سراسٹینفورڈ کرپس نے، جنہیں تحریک پاکستان کے دوران متعدد بار قائد اعظم سے ملاقات و مذاکرات کا شرف حاصل ہوا تھا، کہا، ’’وہ بہ حیثیت انسان راست بازی اور دیانت داری کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز تھے۔

ان کے ساتھ گفت و شنید کرنا متعدد وجوہات کی بناء پر دشوار ترین امر تھا، کیونکہ وہ اپنے مقصد اور موقف پر غیرمتزلزل یقین رکھتے تھے۔ وہ بہت نفیس اور خوش اخلاق میزبان تھے اور اپنے موقف کے حق میں دوسروں کو ہم وار کرنے اور دوسروں کے اٹھائے ہوئے سوالات کا مدلل جواب دینے کے لیے پوری رات جاگنے کے لیے تیار رہتے تھے۔‘‘ برطانیہ کے سابق وزیر ہند لارڈ پیتھک لارنس نے کہا، ’’قائد اعظم جناح کا نام ایک عظیم قوم کی تشکیل کرنے والے راہنما کی حیثیت سے تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔‘‘

امریکا کے صدر ہیری ایس ٹرومین نے کہا، ’’پاکستان کے گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح کے اچانک انتقال کی خبر سن کر شدید صدمہ پہنچا۔ وہ پاکستان کے خواب کو تعبیر سے ہم کنار کرنے والے، ایک مملکت کے معمار اور دنیا کی سب سے بڑی مسلم قوم کے بابائے قوم تھے۔ مسٹر جناح کی مقصد سے وابستگی، جاں نثاری اور بے مثل قیادت کی یادیں پاکستان کے عوام اور حکومت کی آئندہ آنے والے دنوں میں ہمیشہ راہ نمائی کرتی رہیں گی۔‘‘

امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ جارج مارشل نے کہا، ’’قائد اعظم محمد علی جناح ان راہنماؤں میں ممتاز و نمایاں تھے جو اپنے مقصد سے غیرمشروط وابستگی اور اس پر غیرمتزلزل یقین رکھتے تھے۔ انہوں نے نہ صرف دنیا کی ایک بہت بڑی قوم کی تشکیل کی، بلکہ اس کے مشکل ترین ابتدائی مرحلے میں دنیا کی دوسری اقوام کے ساتھ تعاون کو فروغ دے کر راہنمائی کی۔ ان کی راست بازی، دیانت داری، خلوص اور ناقابلِ تسخیر عزم کی ان کے سیاسی دوست اور دشمن سب ہی قدر کرتے تھے۔ انہیں تنظیمی اور سیاسی امور میں جو مہارت تھی اس نے انہیں نہ صرف ایشیا بلکہ دنیا کے عظیم مدبروں کی صف میں نمایاں اور ممتاز کردیا تھا۔ ان کے انتقال سے نہ صرف پاکستان کے عوام بلکہ اقوام عالم نے ایک عظیم رہنما کو کھو دیا۔‘‘

Don't forget me in your prayers. Let us know about your reactions 😊


Join Us On

For queries, save the admin's number and message with your name, city, age, and education:

  • 📱 +923306744069

Post a Comment

0Comments

Please Select Embedded Mode To show the Comment System.*