ممتاز مفتی: اردو ادب کا چمکتا ستارہ

0

  ممتاز مفتی: اردو ادب کا چمکتا ستارہ

یوم ولادت: 11 ستمبر 1905

اردو ادب کی دنیا میں ممتاز مفتی کا نام ایک روشن ستارے کی مانند چمکتا ہے۔ 11 ستمبر 1905 کو برٹش انڈیا کے مشہور شہر بٹالہ، ضلع گورداس پور میں مفتی محمد حسین کے گھر جنم لینے والے ممتاز مفتی نے اردو ادب کی دنیا میں اپنی شناخت بنائی۔ ابتدائی تعلیم کا سفر انہوں نے امرتسر، میانوالی، ملتان اور ڈیرہ غازی خان جیسے مختلف مقامات پر کیا۔ میٹرک کا امتحان ڈیرہ غازی خان سے، ایف اے امرتسر سے اور بی اے اسلامیہ کالج لاہور سے مکمل کیا۔

ممتاز مفتی کی ادبی زندگی کا آغاز "جھکی جھکی آنکھیں" کے افسانے سے ہوا، جو ادبی دنیا لاہور میں شائع ہوا اور اس طرح وہ مفتی محمد حسین سے ممتاز مفتی بن گئے۔ ان کی تخلیقات میں کئی افسانوی مجموعے شامل ہیں، جن میں "ان کہی"، "گہماگہمی"، "چپ"، "روغنی پتلے" اور "سمے کا بندھن" نمایاں ہیں۔ سوانحی ناول "علی پور کا ایلی" اور "الکھ نگری" ان کی ادبی مہارت کے عکاس ہیں۔

ممتاز مفتی نے سفرنامے بھی تحریر کیے، جن میں "ہند یاترا" اور "لبیک" شامل ہیں۔ ان کی خاکہ نگاری کی کتابیں جیسے "اوکھے لوگ"، "پیاز کے چھلکے" اور "تلاش" بھی ادب کی دنیا میں اپنی خاص پہچان رکھتی ہیں۔

ممتاز مفتی نے اردو ادب کو اپنی بصیرت، تخلیقی صلاحیت اور منفرد انداز سے مالا مال کیا۔ انہوں نے 27 اکتوبر 1995 کو اسلام آباد میں 91 برس کی عمر میں انتقال کیا، مگر ان کی تخلیقات آج بھی اردو ادب کے طالب علموں اور قاریوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔


Join Us On

For queries, save the admin's number and message with your name, city, age, and education:

  • 📱 +923306744069

Post a Comment

0Comments

Please Select Embedded Mode To show the Comment System.*