قلعہ مروٹ: ایک تاریخی ورثہ، اب ماضی کا حصہ
قلعہ مروٹ، جو اصل میں مہروٹ کے نام سے جانا جاتا تھا، ایک شاندار تاریخی مقام تھا جسے 1491ء میں تعمیر کیا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کا نام مہروٹ سے بگڑ کر مروٹ ہوگیا۔ یہ قلعہ ملتان اور دہلی کی معروف گزرگاہ پر واقع ہونے کی وجہ سے ایک اہم اور مصروف مقام تھا۔
1. محلِ وقوع اور موجودہ حالت
- قلعہ مروٹ چولستان کے صحرا میں، ضلع بہاولنگر کی تحصیل فورٹ عباس سے تقریباً 45 کلومیٹر دور واقع ہے۔
- یہ قلعہ آج ایک کھنڈر کی صورت اختیار کر چکا ہے، اور اس کی باقیات اپنی آخری سانسیں گن رہی ہیں۔
- قلعے کا سب سے بلند حصہ، ایک برج نما نشان، اس وقت کھڑا ہے، لیکن یہ بھی مسلسل بارشوں اور وقت کی بے رحمی کی وجہ سے تباہی کے قریب ہے۔
2. تاریخی اہمیت
- قلعہ مروٹ اپنے وقت میں ملتان سے دہلی کے درمیان گزرگاہ پر ایک اہم مقام تھا۔
- یہ نہ صرف ایک دفاعی قلعہ تھا بلکہ یہاں کے رہنے والوں کے لیے سیاسی اور تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بھی تھا۔
- اس کی تعمیر کا شاندار فن اور مقام، اس دور کے فنِ تعمیر اور حکومتی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
3. تباہی اور ہماری غفلت
- قلعے کے باقیات میں ایک برج موجود ہے، جس میں ایک جھوٹی کھڑکی یا دروازہ نما ساخت موجود ہے، جو شاید قلعے کے کسی خاص حصے کی علامت تھی۔
- بارشوں اور دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے یہ برج بھی جلد گرنے کے خطرے میں ہے۔
- افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نے اپنے تاریخی ورثے کی دیکھ بھال میں ناکامی کا ثبوت دیا، اور مروٹ جیسا شاندار قلعہ بھی اس غفلت کی بھینٹ چڑھ گیا۔
قلعہ مروٹ کی حفاظت کی ضرورت
قلعہ مروٹ جیسا مقام ہماری تاریخ، فنِ تعمیر، اور تہذیب کا مظہر ہے، لیکن بدقسمتی سے یہ جگہ اب کھنڈر بن کر رہ گئی ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ہم ایک اور بیش قیمت ورثہ ہمیشہ کے لیے کھو دیں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور مقامی لوگ اس قلعے کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کریں تاکہ ہماری آنے والی نسلیں اپنے ثقافتی ورثے سے روشناس رہ سکیں۔
Don't forget me in your prayers. Let us know about your reactions 😊
Join Us On
For queries, save the admin's number and message with your name, city, age, and education:
- 📱 +923306744069
.jpg)