ماڑی انڈس تا بنوں اور لکی مروت ریلوے ٹریک: ایک تاریخی ورثہ

0


 

ماڑی انڈس تا بنوں اور لکی مروت ریلوے ٹریک: ایک تاریخی ورثہ

برصغیر پاک و ہند میں ریلوے نظام کی بنیاد 1855ء میں رکھی گئی، اور یہ نظام متحدہ ہندوستان کے تمام علاقوں تک پھیلایا گیا۔ اس میں پاکستان کے موجودہ علاقے میں ریلوے نظام کی بنیاد 1880ء میں ڈالی گئی، جو بڑی پٹڑی (براڈ گیج) پر مشتمل تھا۔ لیکن شمالی اور جنوبی وزیرستان میں انگریز حکومت کی فوجی ضروریات کے تحت، چھوٹی پٹڑی (نیرو گیج) پر ریلوے لائن بچھائی گئی۔


1. ماڑی انڈس تا بنوں ریلوے ٹریک (1913–1916)

  • آغاز:
    ماڑی انڈس کے مقام پر 1913ء میں ریلوے لائن بچھانے کا کام شروع ہوا، جو 3 سال میں مکمل ہوا۔
  • مقصد:
    یہ ٹریک انگریز حکومت کی فوجی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بچھایا گیا تھا تاکہ قبائلی علاقوں میں بغاوتوں کو کچلنے کے لیے فوجیوں اور سازوسامان کی نقل و حرکت آسان ہو۔
  • اہم مقامات:
    ریلوے لائن ماڑی انڈس سے بنوں تک گئی اور درج ذیل اسٹیشنوں سے گزرتی تھی:
    • ماڑی انڈس
    • کالاباغ
    • کمر مشانی
    • عیسیٰ خیل
    • لکی مروت
    • نورنگ سرائے
    • غوری والا
    • بنوں

2. لکی مروت تا ٹانک منزئی ریلوے ٹریک (1920–1927)

  • آغاز:
    اس لنک سیکشن پر کام 1920ء میں شروع ہوا اور 7 سال میں مکمل ہوا۔
  • مقصد:
    جنوبی وزیرستان کے فوجی مشنز کے لیے فوجی کیمپ "منزئی" تک ریلوے لائن کی ضرورت تھی۔
  • اہم مقامات:
    لکی مروت سے منزئی تک ریلوے اسٹیشنز درج ذیل تھے:
    • لکی مروت جنکشن
    • پیزو
    • گل امام
    • ٹانک
    • کوڑ برج
    • منزئی کیمپ

3. ریلوے ٹریک کی اہمیت اور زوال

  • فوجی اور عوامی خدمت:
    • یہ ریلوے ٹریک 50 سال تک کامیابی سے چلتا رہا اور غریب عوام کے لیے سستا سفر فراہم کرتا تھا۔
    • ماڑی انڈس سے بنوں تک کا کرایہ صرف 12 روپے تھا، جو اُس وقت ایک ٹیچر کی ماہانہ تنخواہ کا 2 فیصد تھا۔
  • زوال کا آغاز:
    1995ء میں ریلوے سروس بند ہوگئی اور 2000ء تک پٹڑیاں اکھاڑ لی گئیں۔
  • وجوہات:
    • روڈ ٹرانسپورٹ کی بھرمار۔
    • حکومتی عدم توجہی۔
    • بھارت میں ریلوے کی ترقی کے برعکس، پاکستان میں ریلوے کا زوال۔

ایک تاریخی ورثہ: کیا ہم اسے بچا سکتے تھے؟

ماڑی انڈس، بنوں اور لکی مروت ریلوے ٹریک ایک اہم تاریخی ورثہ تھا جو نہ صرف فوجی ضروریات بلکہ عوامی سفر کے لیے بھی بے حد اہم تھا۔ آج یہ ٹریک اور اس کے اسٹیشنز ویران ہو چکے ہیں۔ یہ بدقسمتی ہے کہ ہم اپنے ثقافتی اور تاریخی ورثے کو محفوظ نہیں رکھ سکے۔

آج کی ضرورت:

  • حکومت کو تاریخی ریلوے لائنوں کی بحالی پر غور کرنا چاہیے۔
  • ریلوے اسٹیشنز کو ایک سیاحتی ورثہ کے طور پر ترقی دی جا سکتی ہے تاکہ آئندہ نسلیں اپنے ماضی سے جڑی رہ 

  • Don't forget me in your prayers. Let us know about your reactions 😊


    Join Us On

    For queries, save the admin's number and message with your name, city, age, and education:

    • 📱 +923306744069
    سکیں۔

Post a Comment

0Comments

Please Select Embedded Mode To show the Comment System.*