سرائیکی وسیب کی شاعری صباحت عروج کا یوم پیدائیش

0

 

سرائیکی وسیب کی شاعری صباحت عروج کا یوم ولادت

8 ستمبر 1995
ہماری آج کی شاعرہ ہیں محترمہ صباحت عروج

جی ہاں ! آج کی شاعرہ نئے عہد کا ایک نام جو اردو سرائیکی دونوں زبان کی شاعرہ ہیں۔ صباحت عروج صرف آج کی شاعرہ نہیں آنے والے کل کی بھی شاعرہ ہیں۔ یوم دفاع سن پچانوے سے ٹھیک دو دن بعد یعنی 8 ستمبر 1995 کو ڈیرہ غازی خان میں ایک بچی کی پیدائش ہوئی جس کا نام کسی مستقبل شناس نے صباحت عروج رکھا اور اپنے نام کی طرح یہ صبیح شاہ ذادی عروج پاتی گئیں اور آج ایک مشہور نام ہیں۔ صباحت عروج نام اتنا پیارا اور شاعرانہ ہے کہ محترمہ کو کسی اور تخلص یا قلمی نام کی کبھی ضرورت نہیں پڑی۔ آپ نے ابتدائی تعلیم ڈیرہ غازی خان سے حاصل کی۔ گریجویشن بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے کیا اور اس اسم با مسمی خوبصورت شاعرہ نے ماسٹرز اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور سے کیا۔ اور ایم فل کی ڈگری منہاج یونیورسٹی لاہور سے حاصل کی۔ آپ کے بڑے بھائی کا ادب سے تعلق ہونے کی وجہ سے آپ کو بچپن سے ہی ادب سے لگاؤ رہا ہے۔ البتہ باقاعدہ شاعری کا آغاز 2012 میں کیا۔ آپ کے پسندیدہ اصناف غزل اور سرائیکی ہیں۔ شاعری کے علاوہ محترمہ کو کھیلوں کا شوق ہے اور کالج و یونیورسٹی میں کئی میڈلز اور شیلڈز لی ہوئی ہیں۔ بہ سلسلہ روزگار آپ ایک غیر سرکاری کالج میں لیکچرر ہیں۔ زندگی سے کیا چاہتے ہیں یا کیا مقاصد ہیں کے جواب میں آپ کا کہنا ہے کہ "میری خواہش ہے کہ وسیب سے شاعرات کو آگے لاؤں اور سرائیکی خواتین میں ادب کو فروغ دوں۔"

یہ تھا ان کا مختصر تعارف، اب آئیے ان کے خوبصورت کلام سے کچھ انتخاب دیکھتے ہیں:


غزل

مقابلے کے نہ ہم دشمنی کے قابل ہیں
ذہین لوگ ہیں، بس عاشقی کے قابل ہیں

جو اپنی مرضی کا سوچیں تم ان کو دفنا دو
کہ ایسی لڑکیاں کب رخصتی کے قابل ہیں

دکھی نہیں ہیں کہ ہم کیوں ہوئے نظر انداز
ہمیں پتہ ہے کہ ہم بے رخی کے قابل ہیں

ہمیں ڈرایا گیا، کب سکھایا ڈٹ جانا
ہم ایسے لوگ فقط عاجزی کے قابل ہیں

لڑائی ہم کو وراثت میں دی گئی ہے حضور
ہم اہل جنگ کہاں شاعری کے قابل ہیں

کسی وبا میں خدا ہم کو مبتلا کرے گا
ہم ایسے لوگ کہاں خود کشی کے قابل ہیں

صباحت عروج


غزل

جسم سے رہ گزر بناتے ہیں
آ محبت کو شر بناتے ہیں

صرف دیوار و در بناتے ہیں
اور دعویٰ ہے گھر بناتے ہیں

خود کو بار دگر بناتے ہیں
اور اب سوچ کر بناتے ہیں

آج لکڑی کے جوڑ کر تختے
ڈوب جانے کا ڈر بناتے ہیں

جن کے پاؤں وہ کاٹ لیتے ہیں
ان کے جسموں پے سر بناتے ہیں

یہ لٹیرے ہی میرے محسن ہیں
بند گلیوں میں در بناتے ہیں

اب صباحت خدا بنے ہیں وہ
اب وہ شمس و قمر بناتے ہیں

صباحت عروج


سرائیکی غزل

تیڈے شہر دا کتا بھونکے
میکوں ڈات پُچاونڑ لگدے

میڈے نال تاں رام ہا کوئی
اوندے نال تاں راونڑ لگدے

ٹوبھے چِکڑ دُھوڑ اندھاری
سُکھ دی بھوئیں تیں ساونڑ لگدے

بچ پوسی کہیں ماء دا بچڑا
تیڈا تاں بس آونڑ لگدے...

صباحت عروج


نظم ۔۔۔۔۔طمانچہ۔۔۔۔۔

درزی بھائی!
یہ لوکپڑا۔۔۔۔۔ کالاکپڑا
(روشن دان کے عین مخالف
اندھیرے سا کالا)
اور اس کپڑے سے اک سی دو برقعہ
ماں کہتی تھی
دھی کی عزت ہی عزت ہے
اپنے آپ کو آپ سنبھالو
وقت ہی کچھ ایسا ہے بھائی!
اور بچے گا جتنا کپڑا
اس سے سی دو
اور اک برقعہ۔۔۔
برقعہ میری دھی زینب کا
نہیں جی کپڑا کم نہ ہوگا
میری زینب۔۔۔ چار برس کی ننھی گڑیا
میں بھی ماں ہوں
خبریں سنتے ہوگے تم بھی
چار برس کی بچی کا بھی برقعہ سی دو
پھر میں سوچوں
چار برس کی بچی کی جو عزت تارو تار ہوئی تو۔۔۔
برقعے سے کیا عزت کی رکھوالی ہوگی؟
میری خام خیالی ہوگی۔۔۔
پھر بھی میری ماں کہتی تھی
دھی کی عزت ہی عزت ہے
اپنے آپ کو آپ سنبھالو
وقت ہی کچھ ایسا ہے بھائی

صباحت عروج


متفرق اشعار

محبت صرف کہنے کو، تعلق تیل پانی سا
ریاضت عمر بھر کرتے رہے بیکار جسموں کی

خدا تیرا، نظام عدل، رب العالمیں تیرا
شریعت تجھ کو دیتی ہے اجازت چار جسموں کی


اس کو جلدی تو ہے بچھڑنے کی
خون تھوکے گا اس کو سمجھاؤ

کیسے لوگوں کے ساتھ رہتی ہوں
تم اگر جان لو۔۔۔ تو مر جاؤ


اللّه سائیں آ تیڈا میڈا اس دنیا وچ کھاتہ مکسی
روح کوں میں آزاد چھوڑیساں، میڈی بس ہے جان دے بعد

تیڈے پچھوں رُلدا دیکھ کے لوک میڈے ہمدرد بنڑیئے
تھوڑا بہوں تاں فائدہ تھیندے، ڈھگ سارے نقصان دے بعد


تیڈی مونجھ کنوں منہ پیلا ہے
میکوں لوک آہدن سفراء تھی گئے

ایویں گالھیاں گالھیں ہوندن ہنڑ
ہر کوئی پچھدے تیکوں کیا تھی گئے


تو مجھ کو آدم و حوا کی داستاں نہ سنا
چل اپنی پسلی سے لڑکی نکال، چلتا بن


ایسے نکلا وہ میرے ہاتھوں سے
جیسے پیروں تلے زمیں نکلے


پڑ گیا رنگ اس لیے کالا
مجھ کو رکھا گیا اندھیرے میں

صباحت عروج


Join Us On

For queries, save the admin's number and message with your name, city, age, and education:

  • 📱 +923306744069

Post a Comment

0Comments

Please Select Embedded Mode To show the Comment System.*