8 ستمبر یوم نفاذ قومی زبان

0

 8 ستمبر یوم نفاذ قومی زبان

آٹھ ستمبر 2015 کو سپریم کورٹ نے دستور کی شق 251 کے تحت ملک کا نظام انگریزی کے بجائے قومی زبان اردو میں چلانے کا حکم جاری کیا۔ اس فیصلے سے امید پیدا ہوئی کہ حکمران قومی زبان کو نافذ کریں گے۔ بدقسمتی سے، حکمرانوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو نظرانداز کیا اور انگریزی کو سرکاری اور دفتری زبان کے طور پر برقرار رکھا۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا تھا کہ یہ ایک اختیاری معاملہ نہیں، بلکہ دستور کا لازمی تقاضا ہے کہ نظام مملکت قومی زبان اردو میں چلایا جائے۔ فیصلے میں نشاندہی کی گئی تھی کہ دستور کو نظرانداز کرنا معاشرے میں لاقانونیت اور من مانیت کو فروغ دیتا ہے۔

تاریخ کا جائزہ لیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام قومی زبان کے دفاع اور نفاذ کے لیے عمل میں آیا تھا۔ مسلم لیگ نے انگریز سے آزادی اور برصغیر کی تقسیم کا مطالبہ کیا، اور اس دوران نفاذ قومی زبان کا مطالبہ بار بار کیا جاتا رہا۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد، قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے 25 فروری 1948 کو اردو کو پاکستان کی سرکاری زبان قرار دیا اور مجلس قانون ساز اسمبلی نے اسی شام اس بل کی منظوری دی۔ اس طرح یہ طے شدہ ہے کہ پاکستان کی قومی اور سرکاری زبان اردو ہے۔

قائد اعظم اور لیاقت علی خان کی وفات کے بعد، پاکستان پر سول اور ملٹری ڈیکٹیٹرز کا قبضہ رہا، جنہوں نے انگریزی زبان کے تسلط کو جبری طور پر برقرار رکھا اور قومی امنگوں کو نظرانداز کیا۔ 1970 کے انتخابات کے بعد عوامی حکومت قائم ہوئی اور قوم نے ایک دستور پر اتفاق کیا، جس میں 1973 کی شق 251 کے تحت ملک کا نظام اردو میں چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ حکومت کو اس عمل کے لیے پندرہ سال کی مہلت دی گئی، اور 13 اگست 1988 سے قومی زبان کا عملی نفاذ ہونا تھا۔

جب حکمرانوں نے مقررہ مدت کے بعد قومی زبان نافذ نہیں کی، تو 2002 میں سپریم کورٹ میں دستور پر عمل درآمد کے لیے مقدمہ دائر کیا گیا۔ اس مقدمے کو عدلیہ نے تیرہ سال تک التواء میں رکھا، اور آخرکار چیف جسٹس دوست محمد خان نے مقدمے کو جسٹس جواد ایس خواجہ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور دیگر ججز پر مشتمل بینچ کے سپرد کیا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے اس معاملے پر پوری دلچسپی کے ساتھ فیصلہ سنایا، اور 8 ستمبر 2015 کو سپریم کورٹ نے نفاذ قومی زبان کے مقدمے کا فیصلہ جاری کیا۔

دستور کی شق 251 اگست 1988 سے نافذ ہونے کا تقاضا کرتی ہے، اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد 8 ستمبر 2015 کو ہونا چاہیے تھا۔ حکمران طبقہ اور نوکرشاہی 36 سالوں سے دستور شکنی اور 9 سال سے توہین عدالت کے مرتکب ہیں۔ سپریم کورٹ میں اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے ایک سے زائد مقدمات زیر سماعت ہیں، اور پنجاب ہائی کورٹ بھی اس بارے میں فیصلہ دے چکی ہے۔

گزشتہ پانچ سالوں سے سپریم کورٹ میں اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے ایک سے زائد مقدمات زیر سماعت ہیں، اور پنجاب ہائی کورٹ بھی گزشتہ سال اس بارے میں فیصلہ دے چکی ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان اس فیصلے پر عمل درآمد کے احکامات جاری کرنے کے بجائے چھ سالوں سے مقدمے کو لٹکائے جا رہے ہیں۔ یوں حکمرانوں، نوکرشاہی اور عدلیہ کے اشتراک نے قومی زبان کے نفاذ کو ناممکن بنا رکھا ہے۔ اسے انگلش شاہی کا ہی نام دیا جا سکتا ہے۔

ہم نفاذ قومی زبان کا مطالبہ محض لسانی عصبیت کی بنیاد پر نہیں کر رہے، حالانکہ لسانی عصبیت بھی قومی عصبیت کا ایک لازمی جزو ہے۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ انگریزی ایک بدیسی زبان ہے، جس کو ہم نے چھہتر سال تک آزمایا ہے۔ اس کے باوجود یہ ہماری زبان نہیں بن سکی۔ اسے ذریعہ تعلیم بنا کر اپنی نسلوں پر یہ ظلم کیا جا رہا ہے کہ وہ رٹا لگا کر 99 فیصد تک نمبر حاصل کر لیتی ہیں لیکن ان کے پلے کچھ نہیں پڑتا۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ تعلیم صرف مادری، قومی زبان میں ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ہمارے پاس ڈگری یافتہ ٹائی کورٹ والے افسران، جج، وکلاء، اساتذہ، سیاستدان، ڈاکٹر، انجنیئرز تو لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں لیکن اپنی پیشہ وارانہ مہارتوں میں ان کا کوئی مقام نہیں ہے۔

ہماری قومی بدحالی معاشی، تعلیم، سماجی اور انصاف کی فراہمی اور دیگر تمام شعبہ جات میں دنیا کی پست ترین سطح پر ہے، جبکہ یورپی یونین کے سروے کے مطابق پاکستانی قوم دنیا میں ذہانت کے اعتبار سے چوتھے نمبر پر ہے۔ چوتھے نمبر والی ذہین ترین قوم کی کارکردگی اگر 160 ویں نمبر پر ہے تو یقینا اس کی ذمہ داری اس کے ذریعہ اور نصاب تعلیم پر ہے۔

ہمارے کئی سابق چیف جسٹس یہ کہہ چکے ہیں کہ ہمارے ہاں مقدمات در مقدمات اور طویل مقدمہ بازی کی اصل وجہ یہ ہے کہ جج اور وکلاء کو انگریزی میں اتنی مہارت نہیں کہ وہ انگریزی میں لکھے ہوئے قانون میں مہارت حاصل کر سکیں یا انگریزی میں لکھے عدالتی فیصلوں کی تعبیر و تشریح کر سکیں۔ اس لیے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جب تک ملک کا نظام قومی زبان میں منتقل نہیں ہوتا، ہم ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتے۔

قومی زبان کا نفاذ ہر اعتبار سے لازمی ہے اور پچیس کروڑ پاکستانیوں کا بنیادی حق ہے۔ اس حق کو پامال کرنے والی انگلش شاہی کو راہ راست پر لانے، دستور کی بالادستی اور قومی زبان کے نفاذ کے لیے عوامی سطح پر مزاحمت کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔ اب یہ مقدمہ عوامی عدالت میں پیش کرکے عوام سے ہی فیصلہ کروانا پڑے گا، تاہم اس کے لیے دستور میں دی گئی مزاحمتی حدود کے اندر رہ کر ہی جدوجہد کرنا پڑے گی۔ اس کا ایک راستہ عوامی ریفرنڈم بھی ہے۔ ہم کوشش کریں گے کہ سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، بازاروں اور دیگر عوامی مقامات پر قومی ریفرنڈم کا اہتمام کریں۔

تحریک نفاذ اردو پاکستان


Don't forget me in your prayers
Let us know about your reactions 😊

🇧 🇾 :

✍🏻 ɢяουρ ᴀ∂мιи : Muhammad Muntazir Mahdi

🅙🅞🅘🅝 🅤🅢 🅞🅝

👇👇👇👇👇👇
✦━━━━━━━━━━━━━━━━━━━✦
🇼 🇭 🇦 🇹 🇸 🇦 🇵 🇵
🇨 🇭 🇦 🇳 🇳 🇪 🇱

✦━━━━━━━━━━━━━━━━━━━✦
🇼 🇭 🇦 🇹 🇸 🇦 🇵 🇵
🇬 🇷 🇴 🇺 🇵

✦━━━━━━━━━━━━━━━━━━━✦
🇹 🇪 🇱 🇪 🇬 🇷 🇦 🇲

✦━━━━━━━━━━━━━━━━━━━✦
📜☜ کسی چیز کی ضرورت کے لیے پہلے ایڈمن کا نمبر سیو کریں اور پھر اپنا نام، شہر، عمر اور تعلیم لکھ کر اس نمبر پر WhatsApp کریں👇🏻
✦━━━━━━━━━━━✦
📱 +923306744069
✦━━━━━━━━━━━✦

Post a Comment

0Comments

Please Select Embedded Mode To show the Comment System.*