پیجر: ایک ٹیکنالوجی کی کہانی اور اس کے خطرات
تعارف: پیجر کا آغاز
تائیوان کی کمپنی گولڈ اپالو نے 1995 میں پیجر کی تخلیق کی۔ یہ ایک چھوٹی، جیب میں رکھی جانے والی ڈیوائس تھی، جو ٹیلیفون کی دوسری اور موبائل فون کی ابتدائی شکل تھی۔ پیجر نے لوگوں کو ایک دوسرے کو سو الفاظ کا پیغام بھیجنے کی سہولت فراہم کی، جو کہ SMS اور ٹیکسٹ میسجز کی ابتدائی شکل تھی۔
پاکستان میں پیجر کا دور
1990 کی دہائی میں، پاکستان میں بھی پیجر کا استعمال عام تھا۔ میں نے بھی اسے استعمال کیا، مگر موبائل فونز کی آمد نے پیجر کی جگہ لے لی۔ اس کے باوجود، خفیہ ادارے، میڈیکل سروسز، اور اسپورٹس کے میدانوں میں اس ٹیکنالوجی کا استعمال جاری رہا۔
- دو اہم وجوہات:
- پیجر کے لیے انٹرنیٹ یا وائی فائی کی ضرورت نہیں ہوتی، لہذا یہ ان جگہوں پر بھی کام کرتا ہے جہاں انٹرنیٹ دستیاب نہیں۔
- یہ موبائل فونز کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہوتا ہے۔
حملے کی تاریخ: 17 ستمبر 2024
اس دن لبنان میں حزب اللہ کے لیے کام کرنے والے 3,000 افراد کو بیک وقت ایک پیغام موصول ہوا، جس کے بعد پیجر پھٹ گئے۔ نتیجتاً، 13 افراد ہلاک اور 2800 زخمی ہوئے۔
- مزید دھماکے:
- 18 ستمبر کو واکی ٹاکیز میں بھی دھماکے ہوئے، جن میں 20 افراد ہلاک ہوئے۔
پیجرز اور موساد کا کردار
پیجر کی بڑھتی ہوئی فروخت نے موساد کی توجہ حاصل کی، جس کے نتیجے میں آن لائن چیکنگ کا عمل شروع ہوا۔ دو امکانات سامنے آئے:
- منی بم: ہنگری کی کمپنی KF&T نے پیجرز میں چھپے بم فراہم کیے۔
- ڈیلیوری ہائی جیکنگ: موساد نے پیجرز کو ہائی جیک کر کے خطرناک ڈیوائسز لگا دیے۔
لیکن کیا ہوا؟
- پیجرز کے دھماکے کے بعد، عالمی برادری میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
- اسپتالوں میں زخمیوں کے علاج کی گنجائش ختم ہو گئی۔
ٹیکنالوجی کے خطرات
آج، دنیا بھر میں تمام ڈیوائسز میں لیتھیم بیٹریاں استعمال ہو رہی ہیں۔ یہ بیٹریاں چھوٹی، تیز چارج ہونے والی، اور طویل عمر کی ہوتی ہیں۔ تاہم، یہ بم کی طرح خطرناک بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔
- بڑے مسائل:
- غیر محفوظ الیکٹرانکس: کوئی بھی ملک یا ایجنسی کسی بھی ڈیوائس میں خطرناک مواد شامل کر سکتی ہے۔
- سافٹ ویئر کی حفاظت: سافٹ ویئر کے ذریعے بھی لیتھیم بیٹریوں کو خطرناک بنایا جا سکتا ہے۔
مسلم دنیا کی حالت
مسلمانوں کی تعداد تقریباً 1.9 ارب ہے، لیکن ہم نے پچھلے ہزار سالوں میں کچھ حاصل نہیں کیا۔ غزہ میں انسانی جانوں کا نقصان، اور لبنان کے حالیہ دھماکے اس کی ایک مثال ہیں۔
نتیجہ: کیا ہم سنبھلیں گے؟
یہ واقعہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اگر ہم اپنی لیبارٹریاں، درس گاہیں، اور لائبریریاں نہیں کھولیں گے تو ٹیکنالوجی کے اس دور میں ہمیں اور بھی بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہمیں اپنی حفاظت کے لیے اس وقت کی ضرورت ہے کہ ہم آگے بڑھیں اور نئی ٹیکنالوجی کو سمجھیں۔
یہ مضمون اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کے خطرات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ ہمیں اپنی غلطیوں سے سیکھنا ہوگا ورنہ ہم تاریخ کے دہرے دھوکے میں پھنسے رہیں گے۔
Don't forget me in your prayers. Let us know about your reactions 😊
Join Us On
For queries, save the admin's number and message with your name, city, age, and education:
- 📱 +923306744069
.jpg)
