دریائے ستلج: پنجاب کا سرخ دریا

0

 


دریائے ستلج: پنجاب کا سرخ دریا

دریائے ستلج، ایک جادوئی سفر کا آغاز، جو تبت کی جھیل راکشاستل سے نکلتا ہے اور پنجاب کی سرزمین کو سیراب کرتا ہے۔ یہ نہ صرف ایک دریا ہے بلکہ ایک تاریخ، ثقافت اور زرخیزی کی علامت بھی!

قدیم داستانوں کا حامل

یہ دریا، جسے یونانی زبان میں "سرخ دریا" کہا جاتا ہے، اپنی کل 1448 کلومیٹر لمبی راہ پر نہ جانے کتنی کہانیاں سناتا ہے۔ قدیم زمانے میں اسے "ستادری" کے نام سے جانا جاتا تھا، جبکہ تبت کے مقامی لوگ اسے "دریائے ہاتھی" کہتے ہیں۔

قدرت کا انمول تحفہ

دریائے ستلج ہمالیہ کی عظیم گھاٹیوں سے گزرتا ہوا، ہماچل پردیش میں 900 میل تک کے علاقے کو سیراب کرتا ہے۔ جب یہ ضلع ہوشیار پور کے میدانی علاقوں میں آتا ہے، تو یہ ایک نئی زندگی کے ساتھ بہتا ہے۔

زرخیز زمینوں کی کہانی

نواب بہاولپور نے اس دریا سے نہریں نکال کر اپنی ریاست کی زمینوں کو زرخیز بنایا۔ آج بھی، دریائے ستلج کی موجودگی نے صحرائے چولستان میں فصلیں اگانے کی امید جگائی ہے۔

بھارت کا حق

1960ء کے سندھ طاس معاہدے کے تحت، بھارت نے دریائے ستلج کے پانی پر اپنا حق تسلیم کروایا، اور بھاکڑہ ڈیم کی تعمیر کے ذریعے 450,000 کلو واٹ بجلی پیدا کی ہے۔

سرحدوں کی کہانی

1849ء میں سکھوں اور انگریزوں کے درمیان جنگ سے پہلے، یہ دریا ایک سرحد کی حیثیت رکھتا تھا۔ آج بھی، کوٹ مٹھن کے مقام پر یہ دریائے سندھ سے ملتا ہے، اپنی قدیم داستانیں سناتے ہوئے۔

دریائے ستلج، ایک قدرتی خزانہ، جو ہمیشہ سے زندگی کی علامت رہا ہے۔ کیا آپ اس کی سحر انگیزی کو محسوس کر سکتے ہیں؟


Don't forget me in your prayers. Let us know about your reactions 😊


Join Us On

For queries, save the admin's number and message with your name, city, age, and education:

  • 📱 +923306744069

Post a Comment

0Comments

Please Select Embedded Mode To show the Comment System.*