منگلا ڈیم کی تعمیر اور ایک دیانتدار جوڑے کی داستان

0

منگلا ڈیم کی تعمیر اور ایک دیانتدار جوڑے کی داستان

 جس مقام پر اب منگلا ڈیم واقع ہے، وہاں کبھی میرپور کا پرانا شہر اپنی بھرپور زندگی کے ساتھ آباد تھا۔ جنگ کی بے رحم تپش نے اس قدیم بستی کو ملبے کے ڈھیر میں بدل دیا تھا۔ ایک روز میں ایک مقامی افسر کو اپنی جیپ میں سوار کیے، اس ویران علاقے کی خاک چھان رہا تھا۔ راستے میں ایک مفلوک الحال بوڑھا اور اس کی بیوی، ایک نحیف گدھے کو ہانکتے، سڑک پر آہستہ آہستہ قدم بڑھا رہے تھے۔ دونوں کے بدن پر پرانے، میلے اور پھٹے کپڑے تھے، جوتے بھی ٹوٹے ہوئے۔ ان کی حالت دیکھ کر دل میں درد اُٹھا۔

انہوں نے ہماری جیپ کو روک کر بڑے ادب سے پوچھا: "بیت المال کس طرف ہے؟"
آزاد کشمیر میں خزانے کو بیت المال ہی کہا جاتا ہے۔

میں نے حیران ہو کر دریافت کیا: "تمہارا بیت المال میں کیا کام ہے؟"
بوڑھے نے سادگی سے جواب دیا: "ہم نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر میرپور شہر کے ملبے میں سے سونے اور چاندی کے زیورات کی دو بوریاں جمع کی ہیں۔ اب انہیں اس گدھے پر لاد کر بیت المال میں جمع کروانے جا رہے ہیں۔"

ان کے الفاظ میں ایسا خلوص تھا کہ دل میں عقیدت کی لہر دوڑ گئی۔ ہم نے ان کا گدھا ایک پولیس کانسٹیبل کے حوالے کیا اور زیورات کی بوریاں اپنی جیپ میں رکھ لیں۔ پھر دونوں میاں بیوی کو ساتھ بٹھا کر بیت المال کی طرف روانہ ہوئے۔

آج بھی وہ نحیف و نزار جوڑا یاد آتا ہے تو شرمندگی سے میرا سر جھک جاتا ہے کہ اس دن میں ان پاکیزہ دلوں کے برابر کیسے بیٹھا رہا؟ مجھے تو چاہیے تھا کہ ان کے گرد آلود پاؤں اپنی آنکھوں سے لگا کر بیٹھتا۔
ایسی سادگی، دیانت اور پاکیزگی کہاں دوبارہ ملتی ہے۔

قدرت اللہ شہاب کی تصنیف "شہاب نامہ" سے ایک اقتباس


Don't forget me in your prayers. Let us know about your reactions 😊


Join Us On

For queries, save the admin's number and message with your name, city, age, and education:

  • 📱 +923306744069

Post a Comment

0Comments

Please Select Embedded Mode To show the Comment System.*